بیروت،23؍مارچ( ایجنسیاں) شام میں باغیوں کے زیر قبضہ اور فوج کے محاصرے کا شکار علاقے مشرقی الغوطہ میں جنگ بندی کے لیے کوششوں کے باوجود دو قصبوں پر اسدی فوج یا روسی طیاروں نے فضائی حملے کیے ہیں جن کے نتیجے میں ایک زیر زمین محفوظ پناہ گاہ میں موجود سینتیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے مطابق جمعہ کی صبح عین طرما اور زملکا پر فضائی حملے کیے گئے ہیں جبکہ شامی فورسز نے ایک اور قصبے حزہ کی جانب رات جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد پیش قدمی کی ہے۔رصدگاہ کا کہنا ہے کہ دوما پر بھی شامی فوج نے فضائی حملے کیے ہیں اور شہر میں جیش الاسلام کے جنگجوؤں اور شامی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔ان فضائی حملوں کے بعد باغیوں نے عام شہریوں کی زندگیاں بچانے کے لیے جنگ بندی کی کوششیں تیز کردی ہیں۔
قبل ازیں ایک باغی گروپ فیلق الرحمان کے ترجمان نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ حرستا میں جنگ بندی کے سمجھوتے پر اصولی طور پر اتفاق ہوگیا ہے۔ شام میں گذشتہ سات سال سے جاری جنگ کے دورا ن میں اسدی فوج اور اس کے اتحادی روس کے لڑاکا طیاروں نے مشرقی الغوطہ میں واقع مختلف قصبوں پر تباہ کن فضائی حملے کیے ہیں اور اسدی فورسز اور باغی گروپوں کے درمیان شدید لڑائی ہورہی ہے۔مگر مشرقی الغوطہ کو مفتوح کرنے کے لیے بھی شامی حکومت نے وہی جنگی حربہ استعمال کیا ہے جو وہ ستمبر 2015ء میں روس کی اس جنگ میں مداخلت کے بعد سے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے استعمال کرتی چلی آرہی ہے۔اس کے تحت شامی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیائیں ایسے علاقے کی پہلی ناکا بندی کرتی ہیں، مکینوں کا قحط سے دوچار کیا جاتا ہے، ان پر فضائی بمباری کی جاتی ہے، پھر زمینی کارروائی کا آغاز کیا جاتا ہے اور سمجھوتے کے بعد باغیوں اور ان کے خاندانوں کو محفوظ راستہ دینے کے بدلے میں علاقہ چھوڑنے پر مجبور کردیا جاتا ہے۔